کیا ریچھ خطرناک ہوتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پُرتگال

بچو! آپ نے اکثر سڑک پر ریچھ کا تماشہ ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ یہ بظاہر بے ضرر اور معصوم سا نظرآتا ہے لیکن یہ درحقیقت بے حد خطرناک بھی ہوتا ہے۔ اگر اسے تنگ کیا جائے یا وہ خطرہ محسوس کرتے تو تیزی سے ردعمل کرتا ہے۔ ریچھ درختوں پر چڑھنے میں ماہر ہوتا ہے۔ ریچھ گوشت خور ممالیہ ہے یعنی یہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے والا جانور ہے۔ عام طور پر اس کی غذا بکریا، چھوٹے جانور اور مچھلیاں ہوتی ہیں۔ اگر ریچھ ان چیزوں کا شکار نہ کرسکے تو پودے اور گھاس پوس کھا کر بھی گزار کرلیتا ہے۔ درختوں پر لگے شہد کے چھتے سے شہد چرانا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔


ریچھ کی دنیا بھر میں کم و بیش چونتیس اقسام پائی جاتی ہیں جن میں پانڈا ہمایا ئیبھورا ریچھ اور برفانی ریچھ نایاب اقسام ہیں۔ ریچھ کو اس کے گوشت اور شمور کے لیے شکار کیا جاتا ہے۔


پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیائی کالا ریچھ اور نایاب بھورا ریچھ پایا جاتا ہے۔ کالا ریچھ درختوں پر چڑھنے میں ماہر ہوتا ہے، اس کے سینے پر سفید رنگ کا V کا نشان ہوتا ہے۔ یہ بلوچستان میں بھی پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے دیوسائی نیشنل پارک میں 65 کے قریب نایاب بھورے ریچھ موجود ہیں۔ نیشنل پارکوں اور چڑیا گھروں میں رکھے جانے والے ریچھ انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں، پھر بھی کسی اچانک حادثے سے بچنے کے لیے ان کے پنجوں سے دور رہنا چاہیے، اس جانور کے بازوں بے حد مضبوط ہوتے ہیں۔


زرافہ دنیا کا سب سے طویل القامت جانور

تحریر: ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پُرتگال

زرافہ کا شمار دنیا کے سب سے لمبے جانوروں میں ہوتا ہے۔ یہ افریقہ کا جگالی کرنے والا جانور ہے۔ زرافہ کی گردن اور ٹانگیں بہت لمبی ہوتی ہیں، ان ٹانگوں کی وجہ سے وہ بہت تیز دوڑ سکتا ہے اور لمبی گردن کی بدولت اونچے اونچے درختوں سے پتے بری آسانی سے کھا لیتا ہے۔ اس کی زبان بھی کافی لمبی ہوتی ہے۔ زرافہ کی کھال پر بڑے بڑے سیاہ دھبے ہوتے ہیں اور ان دھبوں کے درمیان باریک باریک دھاریاں ہوتی ہیں جو زیبرے کی دھاریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ زرافہ کا چہرہ اونٹ کے چہرے سے مشابہہ ہوتا ہے اور اس کی جلد کے دھے چیتے کے دھبوں جیسے ہوتے ہیں۔
زرافہ کی نو مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور اس کی یہ اقسام اس کی جلد کے دھبوں سے پہچانی جاتی ہیں, یعنی مختلف النوع زرافوں کے جسم کے دھبے مختلف ہوتے ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے جدا رکھنے میں مدد دیتےہیں۔
زرافہ کے سر پر چھوٹے چھوٹے گول سینگ ہوتے ہیں جو عمر کے ساتھ بڑھتے بڑھتے پانچ انچ تک بڑے ہوجاتے ہیں۔ زرافہ کے یہ سینگ اس کا موثر ہتھیار ہوتے ہیں جو لڑائی کے وقت اس کے سر کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور دشمن کو پسپا بھی کرتے ہیں۔
نر زرافہ کا قد اور وزن مادہ زرافہ کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ نر زرافہ عام طور پر اٹھارہ سے بیس فٹ تک لمبا ہوتا ہے اور وزن سولہ سو کلو کے قریب ہوتا ہے جبکہ مادہ زرافہ کا قد سولہ فٹ اور وزن آٹھ سو تیس کلو ہوتا ہے۔ ایک صحت مند زرافہ جنگل کی آزاد فضا میں پچیس سے تیس سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ زرافہ افریقہ کے جنگلوں میں گھومتا پھرتا ہے، جہاں اسے کھانے کے لیے اونچے اونچے ہرے بھرے درخت اور وسیع سرسبز میدان میسر آتے ہیں۔ زرافہ ایسا جانور ہے جو پانی کے بغیر کئی دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ وہ اپنی پیاس پتوں میں موجود نمی سے پوری کرلیتا ہے۔


ایشیاء کی پرانی کرنسی

تحریر: ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پُرتگال

پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں “پھوٹی کوڑی” کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں بچی۔

ایشیاء کا پُرانا ترین سکہ شاید یہی ’’پھوٹی کوڑی ‘‘ہے۔یہ پھوٹی کوڑی ’’کوڑی‘‘ یا پھٹا ہوا گھونگھا ہے۔ جسے کوڑی گھونگھے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا استعمال دنیا میں کوئی پانچ ہزار (5000) سال قبل وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ ’’پھوٹی ‘‘ کا نام اسے اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک طرف پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے کوڑی کا گھونگا ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کہلایا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیدا وار محدود تھی۔ اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی کوئی قدر / ویلیو ہے۔

تین پھوٹی کوڑیوں کے گھونگھے ایک پوری کوڑی کے برابر تھے۔ جو ایک چھوٹا سا سمندری گھونگھا تھا۔ لیکن ان دونوں کی کوئی آخری حیثیت / ویلیو تھی۔ وہ ’’روپا‘‘تھی۔ جسے بعد میں ’’روپیہ‘‘ کہاجانے لگا۔۔ ایک’’روپیہ ‘‘5,275’‘پھوٹی کوڑیوں‘‘ کے برابر تھا۔ ان کے درمیان دس مختلف سکے تھے۔جنہیں ’’کوڑی‘‘، دمڑی‘‘، ’’پائی‘‘، ’’دھیلا‘‘، ’’پیسہ‘‘، ’ٹکہ‘‘، ’’آنہ‘‘، ’’دونی‘‘، ’’چونی‘‘، ’’اٹھنی‘‘ اور پھر کہیں جا کر ’’روپیہ‘‘ بنتا تھا۔

‎کرنسی کی قیمت یہ تھی-

3 پھوٹی کوڑی= 1کوڑی

10کوڑی = 1 دمڑی

02دمڑى = 1.5پائى.

ڈیڑھ پائى = 1 دهيلا.

2دهيلا = 1 پيسہ .
تین پیسے= ایک ٹکہ
چھ پيسه یا دو ٹکے= 1 آنہ .
دو آنے= دونی
چار آنے= چونی
آٹھ آنے= اٹھنی
16 آنے = 1 روپيہ

جس طرح اردو زبان کے روزمرہ میں “پھوٹی کوڑی” کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں بچی۔ اسی طرح
کوڑی کوڑی کا محتاج ہو جانا

دمڑی جاۓ چمڑی نہ جاۓ در اصل کنجوسی کی شدید حالت کو بیان کرنےکے لئیے استعمال ہوتا ہے
ایک پائی نہ ہونا غربت کا مظہر …
ایک دھیلے کا نہ ہونا ذراکم غربت ..
ایک ٹکے کی اوقات (ذلیل کرنے کا غیر مہذب بیانیہ)..
ٹکہ بنگلہ دیش کی کرنسی بھی ہے

کیونکہ سب سے اعلی اور مکمل حیثیت روپیہ کی تھی (جس میں سولہ آنے ہوتے تھے) اس لئیے بات کا سولہ آنے صحیح ہونا ۱۰۰ فیصد صحیح


مینڈک موسم سرما میں نظر کیوں نہیں آتے

تحریر: ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پُرتگال

مینڈک کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان اقسام ہی کی بدولت مینڈک اپنی جسامت، رنگ اور شکل و صورت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ امریکا میں پائے جانے والے بغص مینڈک Tree Forg لمبائی میں ایک انچ سے زیادہ لمبے نہیں ہوتے۔ مینڈکوں کی ایک اور قسم Leopard Frog لمبائی میں دو سے چار انچ لمبے ہوتے ہیں، اسی طرح بل فروگ آٹھ انچ لمبے جبکہ ان کی ٹانگوں کی لمبائی دس انچ تک ہوسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ تمام مینڈک موسم سرما میں کہا چلے جاتے ہیں؟ شمالی ممالک میں موسم سرما کے آغار پر کچھ اقسام کے مینڈک تالابوں میں چھلانگ لگانے اور ان کی تہہ میں موجود گارے اور کیچڑ میں روپوش ہوجاتے ہیں۔ تمام موسم سرما یہ وہاں سوئے رہتے ہیں۔ اس عمل کو سہ ماہی نیند کہتے ہیں۔ شدید سردی میں بھی تالابوں اور جوہڑوں کا پانی مکمل طور پر نہیں جمتا بلکہ سطح کے نیچے اپنی اصل حالت میں ہی رہتا ہے، اس وجہ سے مینڈکوں کو بھی سردی میں جم جانے کا خدشہ نہیں ہوتا۔ مینڈکوں کی آنکھیں اس کے سر کے بالکل اوپر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پانی میں چھپے رہنے کے باوجود سطح سے اوپر دیکھ سکتے ہیں، اسی خصوصیت کی بنا پر مینڈک اپنے شکاریوں کے خطرے سے آگاہ رہتے ہیں۔


Create Your Own Website With Webador