چیمپئن سیلز کیا ہوتے ہیں ؟
وہ لمحہ جب سب سے چھوٹا خلیہ سب سے بڑے خلئے سے جا ملتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ ہوتا ہے. ان دو خلئیوں کا امتزاج اتنا حسین ہوتا ہے کہ وہ آپ جیسی ایک خوبرو شخصیت کو وجود دیتا ہے۔
اربوں سپرمز میں سے ایک ایسا چیمپئن سپرم ہوتا ہے جو اس دوڑ میں جیتنے کا چانس رکھتا ہے۔ اسی طرح ملینز آو پوٹینشل ایگ سیل میں سے صرف ایک ایگ سیل ہی آپ کو وجود دے پاتا ہے۔
سپرم کا سائز اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟
چونکہ سپرم نے صرف جینیٹک میٹیرل ایگ سیل تک لیجانا ہوتا ہے اس لئے ایک سپرم سیل میں اتنی زیادہ ایڈاپٹیشن آ چکی ہیں کہ اس کا سائز کم سے کم ہو گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک لمبے سفر کے لئے آپ صرف ضرورت کی اشیا ساتھ لیکر نکلتے ہیں بالکل ایسے ہی ایک سپرم بھی اپنے پاس سفر کا ضروری سامان رکھتا ہے ۔ یہ سامان درج ذیل ہےڈی این اےفیول70-100 مائٹوکانڈریابس ان چند چیزوں کیساتھ یہ سب سے ننھا سیل سب سے بڑے سیل سے ملنے نکل جاتا ہے۔ اس دوران کامیاب مسافر سپرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تیز اور انرجی رکھتا ہے۔
یہ انرجی انہیں تیرنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ ایک ایگ سیل تک پہنچ جاتے ہیں۔یہاں اس کا سامنا خود اسے 174000 گنا وزنی سیل سے ہوتا ہے۔ ایگ سیل اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے؟ ایک نارمل ایگ سیل کو ہم عام آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایگ اپنے اندر خوراک کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ تمام طرح کی تقسیم یہی ہونی ہے تو یہ سیل اپنے پاس خوراک کا ہر ممکن ذخیرہ رکھتا ہے۔ یہ تمام ذخیرہ سیل کی تقسیم کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے اس کا سائز اتنا بڑا ہے۔وہ مسافر سپرم جو کہ سفر کا ضروری سامان لیکر نکلا تھا یہاں آکر خوب خاطر مدارت کرواتا ہے۔ یہاں یہ سپرم اپنی امانت (ڈی این اے) ایگ کو سونپتا ہے. یوں سیل کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
سب سے پہلے یہ خلئیہ ایک سے دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ دو پھر چار میں اور یونہی سلسلہ چلتے چلتے اربوں تک پہنچ جاتا ہے اور موت تک چلتا رہتا ہے۔ایک نارمل مرد اپنی صحتمند زندگی میں اربوں سپرم سیل پیدا کرتا ہے۔جبکہ اسی طرح ایک مادہ دس لاکھ تک potential ایگ سیل رکھتی ہے۔ بعد میں جوانی تک پہنچتے پہنچتے انکی تعداد دو سے تین لاکھ رہ جاتی ہے اور پھر ان سے محض 300 تک ایگ سیل اوویولیٹ ہو پاتے ہیں۔ یہ تعداد عمر کیساتھ ساتھ کم ہوتی ہے اور عموما چالیس سال بعد ان کا ریلیز ہونا ختم ہوجاتا ہے۔ان اربوں سپرم سیلز میں سے صرف ایک سیل ان ملینز میں سے ایک ایگ سیل سے جا ملتا ہے اور آپ کو وجود دیتا ہے۔
تو کیا آپ ان سیلز کو چیمپئن سیلز نہیں کہیں گے؟
قدرت کا یہ نظام ایک حیرت کدے سے کم نہیں. سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے سیل کے حسین امتزاج کے نتیجے میں یہ سب وجود پاتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے اور یونہی حیات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ جو چیمپئن ہوتے ہیں وہ نیا وجود بنا لیتے ہیں باقی کے فنا ہوجاتے ہیں۔
متفرق معلومات
نوبل پرائز کسی بھی فرد یا ادارے کو فزکس، کیمسٹری، میڈیسن، سشیالوجی، لٹریچر، انٹرنیشنل امن اور اکنامکس سائنسز میں انتہائی اعلٰی کارکردگی کی بناء پر دیا جانے والا ایوارڈ ہے۔
کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ون ڈے میچ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 1970 میں کھیلا گیا
انسان کے خون کے سرخ خلئے (RBC) صرف 20 سیکنڈ میں پورے جسم کا ایک چکر لگا لیتے ہیں۔
پیغمبروں کی سر زمین فلسطین کو کہتے ہیں ۔
پھولوں کا ملک ہالینڈ کو کہتے ہیں ۔
موٹر کار 1768ء میں ایجاد ہوئی ۔ (فرانس)
پستول 1500ء میں ایجاد ہوا ۔ (اٹلی)
عینک 1226ء میں ایجاد ہوئی ۔
پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری پنجاب پبلک لائبریری ہے ۔
دنیا میں سب سے پہلا زیبرا کراسنگ کا قانون برطانیہ میں 1951ء میں نافذ ہوا ۔
دنیا میں سب سے پہلا ٹی وی کا کامیاب تجربہ 1925ء میں ہوا ۔
لفظ یونان کے پہلے دو لفظ مٹانے سے کھانے والی چیز بن جاتی ہے ۔ نان
پاکستان کا پہلا سکہ 1948ء میں جاری ہوا ۔
ہمنگ برڈ دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ ہے ۔
سعودی عرب میں کوئی سینیما نہیں ہے ۔
ایک 100 پاور کا بلب اگر مسلسل 10 گھنٹے جلتا رہے تو بجلی کا ایک یونٹ خرچ ہوگا ۔
شہد کو ہضم کرنا نہایت آسان ہے کیونکہ یہ پہلے سے ہی شہد کی مکھیوں کے ذریعہ ہضم شدہ حالت میں ہوتا ہے ۔
اُلو واحد ایسا پرندہ ہے جو اپنی اوپری پلک چھپکاتا ہے ۔ باقی سارے پرندے اپنی نچلی پلک جھپکاتے ہیں ۔
چمگادڑ غار سے نکلتے وقت ہمیشہ بائیں طرف مڑتے ہیں ۔
کسی خوشگوار چیز کو دیکھنے پر آپ کی آنکھوں کی پتلیاں %45 تک پھیل جاتی ہیں ۔
بحری جہاز ٹائی ٹینک کو بنانے میں 70 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے جبکہ اس پر مبنی فلم بنانے میں 20 کروڑ ڈالر خرچ ہوتے ہیں ۔ پہلا بحری جہاز ہے جس نے SOS سگنل کا استعمال کیا تھا ۔
پیاز کاٹتے وقت چیونگم چبانے سے آنکھوں میں آنسو نہیں آتے ۔
انسانی دل دھڑکتے وقت اتنا دباؤ پیدا کرتا ہے جو کہ خون کو 30 فٹ دور پھینک سکتا ہے ۔
بڑے کینگرو ایک چھلانگ میں 30 فٹ تک دوری طے کرسکتے ہیں ۔
بغیر زمین کے تازہ پھل اُگائیں
اب رہائشی رقبے میں کمی ہوگئ ہے، ترقی یافتہ شہروں میں لوگ تنگ اپارٹمنٹس ہی میں رہتے ہیں، اس کے باوجود کاشتکاری اور باغبانی تو انسانی جین میں شامل ہے، وہ تازہ سبزیاں بھی کھانا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لیے بل فیکٹر نے ایک ایسا پلانٹر بنایا ہے جو کم جگہ گھیرتا ہے، اسے بالکونی میں لٹکایا جاسکتا ہے، اس میں آپ ٹماٹر ہو یا چیری کچھ بھی کاشت کرسکتے ہیں۔ پودا مکمل ہونے میں ایک ماہ لے گا اورپھر ایک ماہ بعد آپ کو پھل مل جائے گا، یہ پلانٹر 19 ڈالر میں دستیاب ہے۔
ADVERTISEMENT
Create Your Own Website With Webador