حصول علم کے لیے دِل جمعی درکار ہے اور دِل جمعی معلومات کے بڑھانے سے نہیں گھٹانے سے حاصل ہوتی ہے .

مصائب گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں . گنہگار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مصیبتوں کے نزول کے وقت واویلا کرے .

تعلقات دنیا کو کم کرنا یہ ہے کہ آدمی دنیا سے ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے .

جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا .


جنہیں خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے انہیں رات چھوٹی لگتی ہے،
اور جنہیں خواب پورا کرنا اچھا لگتا ہے انہیں دن چھوٹا لگتا ہے۔

 

اپنے تھوڑے کو دوسرے کے زیادہ سے بہتر جان، سکون میں رہے گا۔

 

عالم اس لیے مغرور ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔ دانا اس لیے دھیما ہے کہ اُس نے ابھی بہیت کچھ جاننا ہے۔ علم، معلوم پر نازاں ہے، دانائی، نامعلوم کے جاننے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ عالم کو احساس جہالت ہو جائے رو وہ دانائی میں قدم رکھ سکتا ہے۔

 

اچھا دوست چاہے کتنا بھی برا بن جائے کبھی اس سے دوستی مت توڑو کیونکہ پانی چاہے کتنا بھی گندہ ہو جائے آگ بجھانے کے کام تو آسکتا ہے۔


انسان کی شرافت اور قابلیت اس کے لباس سے نہیں ، اس کے کردار اور فعل و گفتار سے ہوتی ہے .

گفتگو کے لیے ذہانت سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے .

پریشانی میں مذاق اور خوشی میں طعنہ نہ دو ،
کیوں کے اِس سے رشتوں میں محبت ختم ہو جاتی .

خاموشی عظیم نعمت ہے بِالْخُصُوص اس مقام پر جہاں اختلاف ذیادہ آوازیں بلند ، علم کی کمی اور دلیل کی کوئی اوقات نا ہو .


Create Your Own Website With Webador