ترا نام ہے فصلِ گُل کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں ۔۔۔۔۔

Published on 6 July 2021 at 16:46

مرے ہم سفر !تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں

مرے شعر ، میری صداقتیں ، مری دھڑکنیں ، مری چاہتیں

تجھے جذب کر لوں لہو میں میں کہ فراق کا نہ رہے خطر

تری دھڑکنوں میں اُتار دوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں 

یہ ردائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے 

تجھے دکھ نہ دیں مرے جیتے جی سرِ دشت غم کی تمازتیں 

مری صبح تیری صداسے ہو، مری شام تیری ضیا سے ہو

یہی طرز پرسشِ دل رکھیں تری خوشبوئوں کی سفارتیں 

کوئی ایسی بزم بہار ہو میں جہا ں یقیںدلا سکوں 

کہ ترا ہی نام ہے فصلِ گل ، کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں 

ترا قرض ہیں مرے روز و شب ، مرے پاس اپنا تو کچھ نہیں 

مری روح ، میری متاعِ فن ، مرے سانس تیری امانتیں

سعدیہ فیصل کہتی ہیں ’’ ہمارے پاس ہمارا کچھ نہیں سب اس وطن اور اس مٹی کا ہے ، سب کرامتیں اسی دیس سے ہیں ، ہماری صبح ہماری شامیں اور خوشیوں کی تمام خوشبوئیں اسی دیس کی مرہون منت ہیں ۔ ہمارا فن ، ہماری صداقتیں ، ہماری دھڑکنیں ، ہماری چاہتیں سب پیارے پاکستان سے ہیں۔

زندگی میں غمی خوشی کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے اس سے گھبرانا یا مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے کیونکہ حالات سدا ایک سے نہیں رہتے ہر کٹھن امتحان کے بعد راحت ملتی ہے ۔میں نے تو زندگی سے اب تک یہی سیکھا ہے کہ ہر حال میں خوش رہو ، مثبت سوچ اپنائو اور منفی جذبات رد کرو ۔ رہی بات ملبوسات کی دنیا کی تو آج ’’ دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے میں نے آپ سب کیلئے چند دلفریب رنگوں اور ڈیزائینز کا انتخاب کیا ہے امید ہے آپ کو یہ سب بہت پسند آئیں گے ۔ ‘‘

Add comment

Comments

There are no comments yet.

Create Your Own Website With Webador